بنگلورو:12/ اگست(ایس او نیوز) بی جے پی کے قومی صدر امیت شا جوآج ریاست کے سہ روزہ دورہ پر پہنچے ۔انہوں نے ریاست کو ایک بار پھر زعفرانیت سے رنگنے کے اپنے ارادوں کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کے کارندوں کو آواز دی کہ ہندو ووٹ بینک کو یکجا کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔ مذہبی بنیاد پر ووٹ مانگنے یا سیاست کرنے کے متعلق الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کی پابندی کو صریح نظر انداز کرتے ہوئے امیت شا نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ہندو ووٹ بینک کو متحد کریں اور ہندو صف بندی کی بنیاد پر ریاست میں دوبارہ بی جے پی کو اقتدار پر لانے کیلئے کام کریں۔ آنے والے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی جیت کیلئے حکمت عملی وضع کرنے اور ریاست کے پارٹی کارکنوں سے تبادلۂ خیال کے مقصد سے آج کیمپے گوڈا انٹرنیشنل ایرپورٹ پر امیت شا کی آمد کے بعد پارٹی لیڈروں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیت شا نے پارٹی کارکنوں کو آواز دی کہ کرناٹک کو بھی ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح کانگریس سے آزاد کرایا جائے اور یہاں بی جے پی کا زعفرانی پرچم جلد لہرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ فروری مارچ کے دوران وزیر اعظم کا وجئے رتھ جنوبی ہند کی طرف رخ کرے گا، اس مرحلے میں پارٹی کارکنوں کو چاہئے کہ ریاست میں بی جے پی کو کامیاب بنانے کیلئے پوری طرح مستعد ہوجائیں۔ ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا سے مخاطب ہوکر امیت شا نے کہاکہ وہ پارٹی کے سبھی قائدین کو اعتماد میں لے کر پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے مستعد ہوجائیں ۔ مرکزی حکومت کی کامیابیوں کو عوام تک پہنچانے کا کام کیاجائے۔
بی جے پی اراکین اسمبلی نے شاہ کی ہنسی اڑائی:اس دوران بنگلور آمد کے بعد امیت شا نے بی جے پی اراکین اسمبلی اور دیگر قائدین پر مشتمل کور کمیٹی میٹنگ سے خطاب کیا۔اپنے خطاب کے دوران امیت شا نے دعویٰ کیا کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی کامیابی انہوں نے انتخابات سے پہلے ہی بتادی تھی۔ الیکشن سے ایک دن قبل ہی انہوں نے وزیر اعظم سے کہہ دیا تھاکہ بی جے پی تین سو سے زائد سیٹوں پر کامیاب ہوگی۔امیت شا کا اتنا کہنا تھا کہ ہال میں موجود بیشتر بی جے پی ا راکین ہنس پڑے۔ اس پر امیت شا نے ان اراکین پر اپنی شدید ناراضگی ظاہر کی۔ یہاں تک کہ بعض اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تاکید کی کہ آئندہ ان کی میٹنگ میں شریک ہونا ہے تو پین اور نوٹ بک کے بغیر نہ آئیں۔ وہ جو بھی کہیں گے اسے نوٹ کرلیا جائے اور اسی کے مطابق کام کیا جائے۔ پارٹی میں کسی بھی طرح کی ضابطہ شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔